Welcome Guest [Log In] [Register]
Salam.Friends.Welcome to Pak Chat. We hope you enjoy your visit.


You're currently viewing our forum as a guest. This means you are limited to certain areas of the board and there are some features you can't use. If you join our community, you'll be able to access member-only sections, and use many member-only features such as customizing your profile, sending personal messages, and voting in polls. Registration is simple, fast, and completely free.


Join our community!


If you're already a member please log in to your account to access all of our features:

Username:   Password:
Add Reply
Nabi Pak (saw) Ki 9 Talwaarain
Topic Started: Oct 23 2010, 03:36 PM (179 Views)
fahad fedhy
Unregistered

>
>
>
>
>
>
>
>
>
> سرکار دو عالم
>
>
> کی ۹ تلواریں اور انکا تعارف
>
>
>
>
>
>
>
> البتّار
>
>
>
>
> یہ تلوار سرکارِ دو عالم نبی اکرم حضرت محمد کو یثرب کے یہودی قبیلے (بنو
> قینقاع ) سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار کو (سیف الانبیاء) نبیوں
> کی تلوار بھی کہا جاتا ہے۔ اس تلوار پر حضرت داؤودؑ، سلیمانؑ، ہارونؑ، یسعؑ،
> زکریاؑ، یحیٰؑ، عیسیٰؑ اور محمد کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔ یہ تلوار حضرت
> داؤودؑ کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی
> کم تھی۔ اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤودؑ کو جالوت کا
> سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو کہ اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ مزید تلوار پر ایک
> ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو بتراء شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی
> ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ
> تلوار ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں واپس آنے کے بعد اللہ کے
> دشمن ’کانے دجال‘ کا خاتمہ کریں گے اور دشمنانِ اسلام سے جہاد کریں گے۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے ۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور
> سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> المأثور
>
>
>
>
> یہ تلوار حضور پاک کو اپنے والد ماجد کی وراثت کے طور پر نبوت کےاعلان سے قبل
> ملی تھی۔ یہ تلوار ایک اور نام ’مأثور الفجر‘ سے بھی مشہور ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت
> ابو بکر ؓ کی معیت میں جب یثرب کی طرف حجرت فرمائی تو یہی تلوار آپ ﷺ کے پاس
> تھی۔ بعد میں آپ ﷺ نے یہ تلوار بمع دیگر چند االالتِ حرب حضرت علی کرم اللہ
> وجہ کو عطا فرما دیئے تھے۔ اس تلوار کا دستہ سونے کا بنا ہوا ہے اور دونوں
> اطراف سے مڑا ہوا ہے۔ مزید خوبصورتی کیلئے اس پر زمرد اور فیروز جڑے ہوئے ہیں۔
>
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے ہے ۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ کی تلواریں اور سامانِ
> حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> الحتف
>
>
>
>
> یہ تلوار بھی نبی پاک کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور
> پر حاصل ہوئی۔ یہ تلوار حضرت داؤودؑ کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے جنہیں اللہ
> تعالٰی نے لوہے کے سازوسامان خاص طور پر ڈھالیں، تلواریں اور دیگر آلالتِ حرب
> بنانے میں خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی۔ حضرت داؤودؑ نے اس تلوار کو ’بتّار‘ سے
> ملتا جلتا لیکن سائز مین اُس سے بڑا بنایا۔ یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے
> پاس اپنے آباء و اجداد بنو اسرائیک کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل محفوظ چلی
> آ رہی تھی حتٰی کہ آخر میں یہ ہمارے پیارے نبی کےمبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت
> کے طور پر پونہچی۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ کی تلواریں اور سامانِ
> حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> الذوالفقار
>
>
>
>
> یہ تلوار ہمارے پیارے نبی پاک کو غزوہِ بدر میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل
> ہوئی۔ تاریخی مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعد میں آپ ﷺ نے یہ تلوار
> حضرت علیؓ کو عطا فرما دی تھی۔ غزوہِ اُحد میں حضرت علیؓ اسی تلوار کے ساتھ
> میدانِ جنگ میں اُترے اور مشرکینِ مکہ کے کئی بڑے بڑے سرداروں کو واصلِ جہنم
> کیا۔ اکثر حوالے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ تلوار خاندانِ حضرت علیؓ میں باقی
> رہی۔ اس تلوار کی وجہِ شہرت یا تو دو دھاری ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر اس پر بنے
> ہوئے ہوئے دو نوک نقش و نگار کی وجہ سے ہے۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ کی تلواریں اور سامانِ
> حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> الرسّوب
>
>
>
>
> یہ تلوار ہمارے پیارے نبی پاک کی ملکیتی 9 تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔
> خاندانِ رسول میں یہ تلوار بالکل ویسے ہی محفوظ منتقل ہوتی ریہ جس طرح ’تابوت
> العہد‘ بنو اسرئیل میں خاندان در خاندان محفوظ رہا اور نسل در نسل منتقل ہوتا
> رہا۔ تلوار پر سنہری دائرے بنے ہوئے ہیں جن پر حضرت جعفر الصادق رضی اللہ عنہ
> کا اسم گرامی کنندہ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے ۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ کی تلواریں اور سامانِ
> حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> المِخذم
>
>
>
>
> اس تلوار کے حوالے سے دو مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔
>
>
> اول یہ تلواررسول اللہ نے حضرت علیؓ کو عطا فرمائی اور بعد میں اولادِ علی میں
> وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔ دوئم یہ تلوار سیدنا علیؓ کو اہلِ شام
> نکے ساتھ ایک معرکہ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ اس تلوار پر ’زین
> الدین العابدین‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ کی تلواریں اور سامانِ
> حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> القضیب
>
>
>
>
> یہ تلوارنحیف اور بہت کم چوڑائی والی ہے بلکہ اسی طرح جس طرح کسی تنگ راستے کی
> مثال دی جاتی ہے۔ یہ تلوار سرکارِ دو عالم کے ہمراہ دفاع یا رفیقِ سفر کے طور
> پر تو ضرور موجود رہی مگر اس تلوار سے کبھی کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔ تلوار پر
> چاندی کے ساتھ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ محمد بن عبداللہ بن عبد
> المطلب‘ کے الفاظ کنندہ ہیں۔کوئی ایسا تاریخی حوالہ اس بات کی طرف اشارہ نہیں
> دیتا کہ تلوار کسی طور سے بھی آپ ؐ کی حیاتِ طیبہ میں کسی جنگ میں استعمال
> ہوئی۔ تلوار ہمیشہ آپ ﷺ کے گھر میں موجود رہی۔ لیکن فاطمینوں کے عہدِ خلافت
> میں اس تلوار کو استعمال کیا گیا۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور اس تلوار کی میان کسی جانور کی کھال
> کی بنی ہوئی ہے۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور
> سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> العضب
>
>
>
>
> یہ تلوار (العضب یعنی تیز دھار والی) پیارے حضرت محمد آپؐ کے صحابی حضرت سعد
> بن عبادہ الانصاریؓ نے غزوہ اُحد سے قبل تحفہ دی تھی۔ آپؐ نے اُحد والے دن یہی
> تلوار حضرت ابو دجانہ الانصاریؓ کو عطا فرما دی تاکہ وہ میدانِ جنگ میں اُتر کر
> اللہ اور اُس کے رسول کے دشمنوں پر اسلام کی قوت و عظمت کا مظاہرہ کریں۔
>
>
> آجکل یہ تلوار مصر کے شہر قاہرہ کی مشہور جامع مسجد الحسین بن علی میں محفوظ
> ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور
> سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
>
>
>
>
>
>
> القلعی
>
>
>
>
> لفظ قلعی کا تعلق یا تو شام کے کسی علاقہ سے دکھائی دیتا ہے یا پھر ہندوستان
> اور چین کے کسی سرحدی علاقے سے ہے۔ جب کہ ایک طبقہ کے علماء یہ بھی دلیل دیتے
> ہیں کہ کیونکہ قلعی ایک قسم کی دھات کا نام ہے جو دیگر دھاتی چیزوں کو چمکانے
> یا ان پر پالش چڑھانے کے کام آتی ہے اس تلوار کی وجہ تسمیہ ہو سکتی ہے۔ یہ
> تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک ہے جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ کو
> یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی
> تھیں۔
>
>
> اسکے علاوہ اس تلوار کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ حضور پاک کے دادا
> حضرت عبد المطلب نے اس تلوار اور سونے کے بنے ہوئے دو ہرنوں کو زمزم کے کنویں
> سے نکلوایا تھا جو کہ قبیلہ جرہم الحمیریہ (حضرت اسماعیلؑ کا سسرالی قبیلہ) نے
> یہاں پر ایک زمانہ قبل دفن کئے تھے۔ بعد میں حضرت عبد المطلب نے اس تلوار کو
> بمعہ دیگر قیمتی سامان (سونا) بیت اللہ میں حفاظت سے رکھوا دیا ۔ تلوار پر دستہ
> کے قریب یہ الفاظ کنندہ ہیں (ھٍذہ السیف المشرفیی لبیت محمد رسول اللہ : یہ
> تلوار محمد رسول اللہ کے گھرانے کی عزت کی علامت ہے)۔ تلوار کی خوبصورت میان
> اسکو دوسری تلواروں میں ایک نمایاں مقام دیتی ہے۔
>
>
> اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے ۔
>
>
> اور آجکل یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’توپ کیپی۔استنبول‘ میں
> محفوظ ہے۔
>
>
> اس تلوار کی تصویر ’محمد حسن محمد التھامی‘ کی محفوظات سے لی گئی ہے ۔ اس نے یہ
> تصاویر ؁1312ھ بمطابق ؁1929ء میں اپنے مقالہ (رسول اللہ ﷺ کی تلواریں اور
> سامانِ حرب) کے سلسلہ میں بنائیں۔
>
Quote Post Goto Top
 
1 user reading this topic (1 Guest and 0 Anonymous)
« Previous Topic · •·.·.·•Islamic Center•·.·.·• · Next Topic »
Add Reply

Offline Profile